انسان کو کہاں تک پہوںچا دیتی ہے اور اس نشہ میں انسان اپنے کو کیا سے کیا سمجھ لیتا ہے
اور اساتذہ کرام ایک نظر میں
شیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک گیدڑ کیا سوچتا ہے۔
مسلمان کی تلوار پر جب عورت کا سایہ پڑ جاتا ہے۔ تو یہ لوہے کا بیکار ٹکڑا بن کے رہ جاتی ہے۔
"فتح" نرمی اور مہربانی سے اپنے مخالفین کے دلوں کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
لوگوں کو کبھی اپنے آنسوں اور جذبات مت دکھاؤ ورنہ وہ اپ کو فوراً سمجھ جائیں گے کہ آپکی کمزوری کیا ہے۔
"زندگی" ایک بہترین دوست کے بغیر تنہا ہے!!
جب "مسجدِ اقصیٰ" صلیبیوں کے ہاتھ میں ہے تو میں کس طرح مسکرا سکتا ہوں؟ کیسے کھا سکتا ہوں اور کیسے پی سکتا ہوں؟
مجھے صلیبیوں کی یلگاروں کی ذرا بھی پروا نہیں۔ پریشانی تو یہ ہے کہ محافظ شراب کے مٹکوں میں ڈوب گئے۔ اسلام کے پاسبانوں نے اپنے آپ کو گھروں میں قید کر لیا۔ اور عورتیں ان کے پاؤں کی زنجیریں بن گئیں۔
customized by
Shaikh yazdani ishaati